المعہد العالی کا نصاب تعلیم

نصاب تعلیم

فقہ اسلامی کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ ہے۔ یہ وہ مآخذہیں جو محفوظ اور مستند ہاتھوں سے ہم تک پہنچے ہیں، فقہائے امت نے انہیں مآخذ میں غور وتعمق اور ان سے مسائل واحکام کا استنباط کرکے زندگی کا ایک مکمل نظام مرتب کیا ہے، جو انسانی زندگی کے تمام گوشوں کو محیط ایک جامع ترین قانون ہے، عبادات ومعاملات، معاشرہ، سماجی زندگی، اقتصادیات، سیاست ونظام حکومت، جرم وسزا اور بین الاقوامی تعلقات، غرض فرد، سماج، قوم اور مختلف اقسام کے باہمی ارتباط سے متعلق تمام ہی مسائل کا احاطہ اس میں موجود ہے، اور عقل ومصلحت سے مطابقت، فطرت انسانی سے ہم آہنگی، انسان کی حقیقی ضرورت وحاجت کی رعایت، سماج کی نت نئی تبدیلیوں میں رہبری کی صلاحیت اس کا سب سے بڑا امتیاز ہے۔

اس لئے فقہ اسلامی کو علوم اسلامی میں ایک خاص شان واہمیت حاصل ہے اور مکمل طور پر انسانی زندگی سے مربوط ومتعلق ہے، اس فن میں غواصی اور دستگاہ کے بغیر ہر عہد کے نئے مسائل کا ایسا حل تلاش کرناجو کتاب وسنت کے منشاء کو بھی پورا کرتا ہو اور متوازن اور انسانی ضروریات سے ہم آہنگ بھی ہو اور زندگی کے مسائل کے بارے میں صحیح رہنمائی  ہو،ممکن نہیں، فقہ اسلامی کے ذریعہ مسلمانوں کی رہنمائی کے دو شعبے ہیں  ‘‘افتاء وقضاء’’۔

افتاء قانون اسلامی کی تشریح وتوضیح سے عبارت ہے اور قضاء پیش آمدہ واقعات کی تحقیق اور اس کے بعد اس پر احکام شریعت کی تطبیق کا نام ہے، اسی لئے یہ دونوں کام بہت ضروری بھی ہیں اور نازک بھی ، اور ہر دور میں ان دونوں موضوعات کو فقہاء اور اصحاب علم ونظر کی توجہ خاص حاصل رہی ہے۔

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ قضاء وافتاء کی تربیت کاکام بہتر اور منظم طور پر انجام پائے، اور یہ تربیت صرف مقدمات کی عملی کارروائی، چند فتاوی کے جوابات اور ایک دوکتابوں کی تدریس تک محدود نہ رہے بلکہ پوری گہرائی کے ساتھ فقہ اسلامی اور اس سے متعلق ضروری فنون کا مطالعہ کرایاجائے، بحث وتحقیق کا ذوق پیدا کیا جائے، اہم مراجع کی طرف طلبہ کی رہنمائی ہو، فقہی نقطہ نظر سے احکام شریعت کے اساسی مصادر کتاب وسنت کا مطالعہ کریں، ان کے اندر علمی وتحقیقی موضوعات پر قلم اٹھانے کا سلیقہ آئے، ادب قضاء اور اصول افتاء پر اہم اور مستند کتابیں بھی ان کو پڑھائی جائیں، اور ان کاموں کی عملی تربیت بھی ہو، اس مقصد کے لئے‘‘المعہد العالی للتدریب فی القضاء والإفتاء ’’ کا یہ نصاب مقرر کیا گیاہے۔

اصول فقہ

اصول فقہ کی حیثیت فقہ کے لئے کلید کی ہے، جب تک اس پر نگاہ نہ ہو مسائل واحکام کے استنباط میں صحیح سمت اختیار نہیں کی جاسکتی، اس کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے فقہ حنفی کی قدیم اصولی کتاب اور مختلف مکاتب فقہ کے اصول پر ماضی قریب کے اصحاب علم وفن کی بعض کتابیں داخل نصاب کی گئیں ہیں۔

قواعد فقہ

قواعد فقہ جس کو ہندوستان کے دینی مدارس کے مروجہ نصاب میں وہ اہمیت نہیں دی گئی ہے جو اس کا حق ہے حالانکہ یہ نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور براہ راست کتاب وسنت سے ماخوذ ہیں، یہ شریعت کی کلیات اور دین کے مزاج ومذاق کی مظہر ہیں، فقہی جزئیات کا بہت بڑا حصہ اجتہاد واستنباط پر مبنی ہے، جن میں تغیر احوال کی وجہ سے تبدیلی ہوسکتی ہے، لیکن یہ قواعد مستقل اور دائمی اصول ہیں، قواعد فقہ کی اس اہمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس فن کو نصاب میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور متعدد کتابیں اس موضوع پر درس ومطالعہ کے لئے رکھی گئی ہیں، جن میں متقدمین کی کتابیں بھی ہیں اور متاخرین کی بھی اور ماضی قریب کے اہل علم کی بھی۔

مقاصد شریعت

کسی بھی قانون کے صحیح ادراک کے لئے ضروری ہے کہ اس کے مقاصد واہداف نگاہ میں ہوں، اس سے بے خبری اور ناآگہی کبھی اباحیت کا راستہ کھول دیتی ہے، اور کبھی بے جا تشدد اور عسر کی طرف لے جاتی ہے، مقاصد واسرار شریعت سے واقفیت کے بعد جو شخص اخلاص کے ساتھ احکام شرعیہ میں غور کرے گا وہ ان شاء اللہ افراط وتفریط سے محفوظ رہے گا، اس لئے اس فن کو بھی نصاب میں مستقل موضوع کی حیثیت سے جگہ دی گئی ہے۔

فقہ مقارن

مختلف مذاہب فقہیہ کا مطالعہ بھی اس نصاب کا اہم حصہ ہے تاکہ طلبہ تمام فقہی ابواب میں اجتماعی اور اختلافی مسائل سے واقف ہو سکیں، اور جان سکیں کہ کون سے مسائل محل غور وفکر بن سکتے ہیں اور کون سے مسائل وہ ہیں جن میں اجتہاد کی گنجائش نہیں، پھر یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ مذاہب اربعہ کو ان کے فقہی مراجع سے پڑھا جائے تاکہ مختلف مذاہب کی صحیح آراء اور ان کی تفصیلات پر نگاہ ہوجائے ، اس میں یہ بات بھی ملحوظ ہے کہ مختلف مذاہب فقہیہ کا مطالعہ نہ صرف معلومات میں بلکہ قلب ونظر میں بھی وسعت پیدا کرتاہے۔

فقہ القرآن والسنہ

نصاب میں یہ بھی ملحوظ ہے کہ چونکہ کتاب وسنت ہی احکام شریعت کے مصادر اساسی ہیں اس لئے آیات احکام اور احادیث احکام پر اہم کتابیں بھی طلبہ کی نظر سے گذر جائیں۔

احوال شخصیہ

‘‘احوال شخصیہ’’فقہ اسلامی کا نہایت اہم شعبہ ہے اور مسلم مملکت ہو یا مسلمان اقلیت میں ہوں، بہر صورت وہ سماجی زندگی میں احکام شریعت کے مکلف ہیں، اسلام کا قانون معاشرت فطرت انسانی سے حددرجہ ہم آہنگ ہے، آج دنیا کا کوئی قانون نہیں جس نے اس سے خوشہ چینی نہیں کی ہو، لیکن بدقسمتی سے آج مغرب کے اہل علم نے قانون اسلامی کے اسی شعبہ کو ہدف تنقید بنایاہے، اسی پس منظر میں ’’احوال شخصیہ‘‘ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

جدید مسائل

ان کتابوں اور تحریروں پر نگاہ ضروری ہے جو عصر حاضر کے جدید پیدا شدہ مسائل کے حل کے لئے لکھی گئی ہیں ، گذشتہ ادوار میں بھی ایسی تحریریں اہل علم کے لئے مرکز توجہ رہی ہیں جو ’’نوازل‘‘کہلاتی ہیں، ہمارے عہد میں مختلف فقہ اکیڈمیوں نے اس پر قابل لحاظ کام کیاہے، اور اس کی ابحاث طبع ہوچکی ہیں، انہیں بھی داخل نصاب کیا گیاہے تاکہ پوری وسعت کے ساتھ ایک مسئلہ پر مختلف نقاط نظر طلبہ کے سامنے آسکیں۔

فقہ حنفی

برصغیر ہندوپاک میں غالب اکثریت احناف کی ہے اس لئے ان ملکوں میں فریضہ قضاء وافتاء انجام دینے کے لئے فقہ حنفی پر عمیق ووسیع نظر ضروری ہے، پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معاملات اور احوال شخصیہ میں فقہ حنفی اس زمانہ کے تقاضوں سے قریب تر ہے اس لئے فقہ حنفی سے معاملات اور احوال شخصیہ کے اہم ابواب سبقا سبقا داخل نصاب ہیں۔

آداب قضاء

ادب قاضی ایک وسیع الاطراف موضوع ہے اور اس پر ایک مکمل کتب خانہ وجود میں آچکاہے، معہد میں اس موضوع کی نہایت اہم اور مستند کتابیں درس ومطالعہ کے لئے منتخب کی گئی ہیں، قانون شہادت، احکام قضاء کا نہایت اہم حصہ ہے جس پر واقعات کے ثبوت کا مدار ہے، اور دور جدید میں مروج‘‘قانون شہادت’’اسلام سے بہت کچھ مختلف ہے، اس لئے اسلام کے قانون شہادت اور آج کے مروج مغربی قانون شہادت کے تقابلی مطالعہ کو بھی شامل نصاب کیا گیاہے۔

تمرین و مشق

قضاء وافتاء کے کام میں صرف درس ومطالعہ کافی نہیں، عملی مشق اور تجربہ ضروری ہے، امارت شرعیہ کا دارالقضاء پورے ملک میں نظام قضاء کا بڑا مرکز ہے، جہاں ہر سال مختلف نوعیت کے سیکڑوں مقدمات آتے ہیں، روزانہ سماعت ہوتی ہے اور فیصلے ہوتے ہیں، نیز امارت کا دارالافتاء ملک کے ان دوتین دارالافتاء میں ہے جہاں سب سے زیادہ ملک کے مختلف علاقو ںسے اور مختلف نوع کے سوالات آتے ہیں، اس سے استفادہ کرتے ہوئے عملی تدریب کے لئے بھی خاصا وقت دیاگیاہے۔

سندی مقالات

سال دوم کی تکمیل پر کسی اہم فقہی عنوان پر موضوع کا احاطہ کرتے ہوئے کم از کم سو صفحات پرمشتمل ایک مقالہ لکھنا یا کسی مخطوطہ پر تحقیقی کام کرنا ضروری ہے۔چنانچہ اب تک مختلف فقہی عنوانات پر 249/مقالات لکھے جاچکے ہیں جن پر نظر ثانی وتصحیح  کا کام جاری ہے، اسی طرح فتاوی ہندیہ کے مراجع ومصادر کی تحقیق کا کام مکمل ہوچکا ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے جب کہ ردالمحتار علی الدرالمختار کے مراجع ومصادر کی تحقیق کا کام جاری ہے، ان شاء اللہ اس علمی ذخیرہ کوحسب سہولت منظر عام پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔جن عناونین پر مقالات اب تک لکھے جاچکے ہیں ان میں سے چند عناوین درج ذیل ہیں:-

  • * بیع الوفاء کے احکام
  • * اسلام میں سود کے احکام
  • * فقہ اسلامی کی تاریخ
  • * أحكام المرضى
  • * أحكام المرأة فی الشريعۃ الإسلاميۃ
  • * الحدود فی ضوء النقل والعقل
  • *  أحكام الإجارة فی الإسلام
  • *  الخيارات فی العقود والمعاملات
  • *  أحكام التداوی بالمحرمات
  • *  أحكام الاستصناع والعقود الجديدة.