المعہد العالی کا تعارف

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام علی سيد المرسلين وعلی آله واصحابه اجمعين

اسلامی نظام حیات زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے اللہ تعالی نے ہر شعبہ کی تکمیل نبی کریم ﷺ کے ذریعہ فرمادی ہے، اسی کا ایک اہم شعبہ نزاعات میں قضاء بین المسلمین ایک اہم ترین فریضہ ہے، قضاء بالعدل پرہی امن کا قیام موقوف ہے، کار قضاء بالعدل فقہی وعلمی لحاظ سے انتہائی اہم ہے اور انسانی تاریخ میں بھی عدلیہ کی بالادستی تسلیم کی جاتی رہی ہے، شعبہ قضاء کے لئے ابواب قضاء کی جہاں پوری واقفیت ضروری ہے وہیں عملی تطبیق کے لئے تدریب وتمرین کی بھی ضرورت ہے۔

اسی طرح روز مرہ نت نئے مسائل میں اسلام کی رہنمائی اور مختلف قسم کے سوالات کے جوابات دے کر دفاع عن الاسلام کا فریضہ مفتیان کرام اور علمائے اسلام کا اہم فریضہ ہے۔

اس سلسلہ میں خاص طور پر کار قضاء کی عملی تربیت کا پورے ملک میں کوئی نظام نہیں تھا،چنانچہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے جب نظام قضاء کو پورے ملک میں عام کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کے لئے ایسے افراد کی بھی ضرورت پیش آئی جو اس کام کو بحسن وخوبی انجام دے سکیں گرچہ غیر رسمی طور پر ملک کے مختلف مقامات پر تربیتی کیمپ کا انعقاد اور دارالقضاء ودار الافتاء میں با صلاحیت نوجوان علماء کو رکھ کر انہیں علمی ،نظری وفکری اور عملی تربیت دینے کا نظام عرصہ سے جاری ہے مگر اس وسیع پیمانے پر پورے ملک میں دارالقضاء ودار الافتاء کے قیام کی ضرورت کی تکمیل اس کے ذریعہ ممکن نہیں تھی، اس لئے اسی ضرورت کے پیش نظر حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ جنہیں اللہ تعالی نے اپنے دین کی خاص بصیرت عطا فرمائی تھی اور جن کو قضاء  وافتاء ہی نہیں بلکہ دین اسلام کے مختلف شعبوں میں اسلام ومسلمانوں کی خدمات کے لئے چن لیا تھا اور پیش آمدہ مسائل کے حل کے لئے افراد سازی سے لیکرمعاشرتی وسماجی اصلاح کا بڑے پیمانے پر جن سے کام لیا،وہ خود امارت شرعیہ کے قاضی القضاۃ تھے اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈجیسی ہندوستانی مسلمانوں کی متفقہ تنظیم کے صدر تھے، ازیں قبل انہوں نے جدید مسائل پر غور وفکر کرنے اور ان کا حل نکالنے کے لئے علماء کی ایک جماعت تیار کی اور اس کے لئے ایک ادارہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے نام سے قائم فرمایا،اسی طرح انہوں نے مسلمانوں کے ملی وسماجی کام کے لئے ‘‘ملی کونسل’’ کی بھی بنیاد ڈالی، تاحیات وہ اس کے جنرل سکریٹری رہے، اس کے علاوہ بہت سے اداروں کے سرپرست و صدر اورذمہ دار تھے۔ چنانچہ انہوں نے شوال 1418؁ھ مطابق فروری 1998؁ء میں امارت شرعیہ بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ کی زیر نگرانی امیر شریعت حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب دامت برکاتہم کی سرپرستی میں افتاء وقضاء دونوں کی بیک وقت تربیت کے لئے یہ ادارہ  المعهد العالی للتدريب فی القضاء والإفتاء کے نام سے قائم فرمایا۔

حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ المعہد کے تاحیات صدر رہے، انہوں نے المعہد کی بنا کا مقصد اور اس کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے  المعہد العالی کے پہلے تعارف نامہ میں یہ تحریر فرمائی : ‘‘امارت شرعیہ بہار ، اڑیسہ وجھارکھنڈ اپنے قیام کے اول یوم سے اپنے بانی حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجادؒ کی فکری بصیرت کے نتیجہ میں مختلف شعبہ ہائے حیات میں کام کی صلاحیت رکھنے والے افراد اور صحیح جذبہ کے ساتھ امت کے اجتماعی وجود کو صحیح خطوط پر قائم رکھنے کی جدوجہد کرنے والے رجال کار کی تربیت وتیاری کاکام کرتی رہی ہے مختلف ایسے کام اور ایسے میدان کار جو اسلام کے نظام اجتماعی کے مفقود ہوجانے کی وجہ سے ایک مٹی ہوئی سنت اور نامانوس شعبے بن گئے تھے، امت میں ان کو متعارف کرانے اور ان کے لئے باصلاحیت افراد کے تیار کرنے کا کام امارت شرعیہ نے کیا۔ امارت شرعیہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان میں حکومت اسلامی کے زوال کے بعد نظام قضاء وقاضی کا جب دھندلا تصور بھی ختم ہوچکا تھا امارت نے اس کو دوبارہ جاری کیا، عشر جو اسلام کی اہم ترین مالی عبادت تھی وہ سما ج سے اس طرح مٹ چکی تھی کہ اس کا نام بھی کہیں نہیں سنا جاتا تھا، نیز زکوۃ کی اجتماعی ادائیگی اور خرچ کا تصور بھی ختم ہوچکا تھا امارت نے اس کو دوبارہ جاری کیا، عہد نبوی کے قائم کردہ نظام نقابت کو نئے سرے سے قائم کیا اور اس کے ذریعہ امت کو امیر کے ساتھ جوڑنے اور ملت کی شیرازہ بندی کا نظام وجود میں آیا۔

پھر جب امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی علیہ الرحمۃ کا دور آیا تو اللہ تعالی شانہ نے ان کے ذریعہ مولانا سجادؒ کی چھوڑی ہوئی اس وراثت یعنی افراد سازی وامت کی شیرازہ بندی کا کام کامل واتم طریقہ پر لیا۔ وہ نوجوان نسل کو ہاتھ میں لیتے، ان کی ذہنی نشوونما اور اخلاقی تربیت کرتے ، اور انہیں علمی وفکری ارتقا کی منزلوں سے گذار کر رجال کار بناتے، امارت شرعیہ کے نظام قضا کی توسیع اور اس کے لئے باصلاحیت قضاۃ کی تربیت کا کام حضرت امیر شریعت رابع نے اپنے پہلے فرمان کے ذریعہ کیا، چنانچہ ان کے امیر منتخب ہونے کے بعد ان کی ہدایت ونگرانی میں تربیت قضا کے دوہفتوں کا کیمپ لگا، اس کے بعد مسلسل کیمپ لگتے رہے اور تربیت کاکام ہوتار ہا۔قضاء کی طرح فتوی نویسی کا کام بھی انہوں نے اپنی نگرانی میں علماء سے محنت کے ساتھ کرایا۔ وہ نوجوان علماء ، مدرسین،اور اساتذہ فقہ وحدیث سے جدید پیش آمدہ مسائل حل کراتے اور ان کو اس کے لئے تیار کرتے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی تعمیری جدوجہد کی بقا اور اس کے استحکام کے لئے تسلسل ضروری ہے، ماضی حال اور مستقبل کا مضبوط رشتہ استوار ہونا اہم ہے اس لئے اگر مستقبل میں آنے والی نسلیں اپنے بزرگوں کے کام کی صحیح وارث نہ ہوں تو وہ کام رک جاتاہے۔ آیت قرآنی‘‘وآخرين منهم لما يلحقوا بهم’’میں کچھ ایسے لوگوں کا تذکرہ کیا گیاہے جو ابھی تمہارے کارواں میں شریک نہیں لیکن آئندہ وہ کارواں کے ساتھ جڑیں گے اور نبی ﷺکے لائے ہوئے علوم واعمال کی وراثت میں حصہ دار ہوں گے، اور بلا شبہ یہ بڑا فضل ہے۔‘‘ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء

خود جناب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ کو مختلف میدان عمل میں کام کرنے کی تربیت دی ، سیدناعمر فاروق ؓ نے جس طرح حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ جیسے نوجوان کی صلاحیت پر خاص نظر رکھی، ان کی تربیت کی اور ہمت افزائی فرمائی وہ اس کی بہترین نظیر ہے، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی سیرت کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے نئی نسل کے علماء کو بحث ومناظرہ اور مباحثہ علمیہ کے مناقشہ اور استنباط احکام کی مشق وتمرین کے ذریعہ اس طرح تیار کیا کہ ان میں سے ہر ایک آسمان علم وفقہ کا آفتاب وماہتاب بن کر چمکا۔

غرض یہ کہ سلف کی وراثت خلف کی طرف منتقل کرنا وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے، آج جو قحط الرجال نظرآتاہے، اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ بزرگ گذرتے گئے اور نئی نسل میں ان کی وراثت منتقل نہیں ہوئی، نتیجہ یہ ہے کہ ہر میدان میں ایسا خلا پیدا ہوا کہ اس کا پر ہونا مشکل ہے، اور شاید علم اور فضل وکمال سینوں سے سلب  نہیں کئے جاتے ہیں بلکہ اہل علم اور اصحاب فضل وکمال کے اپنی وراثت منتقل کئے بغیر گذرجانے سے علم وفضل کا انحطاط ہوتاہے۔ اس کی طرف خود جناب رسول اللہ ﷺ نے ‘‘ولکن یقبض العلم بقبض العلماء ’’ میں اشارہ فرمایاہے۔

بہر حال اس دور کا ایک اہم ترین کام یہ ہے کہ جدید نسل کے ہونہار نوجوانوں کو تربیت دے کر حال اور ماضی کے اصحاب فضل وکمال کا وارث بنایاجائے۔ یہ وہ فکر ہے جو اول یوم سے ہم لوگوں کے سامنے رہی ہے، اولا غیر رسمی طورپر ملک کے مختلف مقامات پر تربیتی کیمپ کا انعقاد اور دوسرے دارالقضاء اور دارالافتاء میں نوجوان باصلاحیت فضلاء کو رکھ کر انہیں علمی ، نظری وفکری اور عملی تربیت دینے کا نظام عرصہ سے جاری ہے۔

اللہ کا شکر ہے کہ یہی تصور‘‘المعهد العالی للتدريب فی القضاء والافتاء (پھلواری شریف،پٹنہ)’’کی تاسیس کا باعث بنا، اس کا مقصد فقہ کے بحر ناپیداکنار کی شناوری، اصول استنباط، قواعد وضوابط فقہیہ، مقاصد شریعت، مناہج استنباط اور اصول ترجیح اور جدید حالات میں احکام شرعیہ کی تطبیق نیز جدید نظامہائے قانون اور اسلامی قانون کا تقابلی مطالعہ ہے ، تاکہ ہمارے فضلاء اس عہد کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے اہل ہوں اور عہد حاضر کے سوالات حل کرنے کے لائق ہوسکیں۔

المعہد میں داخل ہونے والے فضلاء کی دوسالہ تعلیم کے دوران نہ صرف یہ کہ انہیں جدید مسائل کی تخریج اور پیش آمدہ مسائل کے حل وفتوی نویسی کی تربیت دی جاتی ہے بلکہ مختلف علمی، فقہی موضوعات پرتحقیق بھی کرائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی اسلام کے عدالتی نظام کے عملی طریقوں سے واقفیت کرانے کے ساتھ ساتھ قضاء کے مختلف مسائل کی نظری تعلیم اور عملی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ امارت شرعیہ کا نظام قضاء انتہائی مربوط ومنظم اور وسیع بنیادوں پر قائم ہے جہاں روزانہ نئے مقدمات کی سماعت اور فیصلے ہوتے ہیں، اور اس کے پاس شرعی فیصلوں کا 80؍سالہ عظیم الشان فقہی ذخیرہ بھی محفوظ ہے جس سے یہ فضلاء فائدہ اٹھاتے ہیں، اس طرح یہ کہنا حق بجانب ہے کہ فقہ اسلامی میں تخصص اور قضاء وافتاء پر عبور حاصل کرنے کے لئے امارت شرعیہ صحیح ترین جگہ ہے اور امید کی جاتی ہے کہ یہاں سے تربیت پاکر نکلنے والے علماء سے پورے ملک میں قانون شریعت کے تحفظ اور عائلی نزاعات کے حل کے لئے قائم ہونے والے ‘‘دارالقضاء’’کی ایک اہم ضرورت پوری ہوگی اور امور قضاء کو انجام دینے کے لائق ہوں گے۔ ساتھ ہی ملک کے مختلف دارالافتاء میں فتوی کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے اور مدارس میں بہترین اساتذہ کی شکل میں خدمت بھی انجام دیں گے۔ اور قانون اسلامی کو ایک زندہ قانون کی حیثیت میں آج کے حالات میں پیش کرنے کے لائق ہوں گے، ان کی نظر مدارج احکام پر ہوگی اور وہ جدید سائنس وٹکنالوجی کی موجودہ ترقی اور معاشرتی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہوئے شریعت کی تطبیق کے اہل ہو سکیں گے۔

اللہ علیم وخبیر سے دعاء کرتاہوں کہ وہ اس معہد کو اس کے صالح تعمیری مفید اور دوررس اثر رکھنے والے مقاصد کے حصول میں کامیابی عطا فرمائے۔ اور زیر تربیت فضلاء تعلیم دینے والے اساتذہ ، ملک کے وہ ممتاز علماء جن کے علم وفکر سے معہد مستفیض ہو ایاوہ اہل خیر جن کے تعاون سے معہد ترقی کی منزلیں طے کرے گا، اللہ ان سب کو اخلاص عطا فرمائے اور ان کے حسن عمل پر اجر جزیل دے۔ اور اس کارواں کے ایک کمزور رفیق کی حیثیت سے اس حقیر کو بھی اس کی برکتوں سے مستفید فرمائے۔ آمین’’(مجاہد الاسلام قاسمی)

چنانچہ اس معہد کا تعلیمی آغازامارت شرعیہ کے جماعت خانہ سے کردیا گیاپھر عارضی طور پرحضرت مولانا بدرالحسن قاسمی صاحب مدظلہ کا مکان جوالمعہد کی عمارت سے متصل مغربی سمت میں واقع ہے حاصل کیا گیا اور اس میں تعلیم کا نظام جاری رہا تاآنکہ المعہد کی مستقل عمارت بن کر تیار ہوگئی ۔

اللہ تعالی ہم سب کو اس امانت کی حفاظت، اس کی ترقی واستحکام اور اس کو اپنے مقاصد کی تکمیل میں لگائے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کے لئے اسے ذخیرۂ آخرت اور دین ودنیا کی برکتوں کے حصول کا ذریعہ بنائے۔وما ذلـك علی الله بعزيز