المعہد العالی کی خصوصیات

  • (۱) المعہد العالی میں ایسے ہی نوجوان علماء کا داخلہ لیاجاتاہے جو کسی معروف ومستند دینی درسگاہ کے فاضل اور اچھے نمبرات سے کامیاب ہوں ۔داخلہ کے لئے باضابطہ مقابلہ جاتی امتحان ہوتاہے اور امتحان میں کامیابی کے بعد ہی داخلہ لیا جاتاہے ۔ المعہد کا نصاب تعلیم دو سالہ ہے اس لئے داخل ہونے  والوں کے  لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ دوسال رہ کر اس کی تکمیل کریں۔
  • (۲) اس میں باقاعدہ پچاس نوجوان علماء کی تربیت کا انتظام ہے ۔سال اول میں 25؍اور سال دوم میں 25۔
  • (۳) جن علماء کا داخلہ ہوتاہے انہیں قیام وطعام کی سہولت ادارہ کی طرف سےدی جاتی ہے اور اس کے علاوہ ماہانہ بطور وظیفہ نقد روپے بھی دیئے جاتے ہیں ۔
  • (۴) اس معہد میں فقہ،اصول فقہ،قواعد فقہ ،مقاصد شرع ،مذاہب فقہیہ کا مطالعہ، آیات احکام اور احادیث نبویہ پر خصوصی نظر اور آداب قضاء وافتاء کی عملی مشق کرائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ انگریزی ،ہندی اور کمپیوٹر کی بھی بقدر ضرورت تعلیم دی جاتی ہے۔
  • (۵) نوجوان علماء میں فقہی ذوق پیدا کرنے کے لئے فقہی سمینار منعقد کئے جاتے ہیں۔جس میں وہ مقالات لکھ کر پیش کرتے ہیں اور اس پر مناقشہ کے بعد تجاویز مرتب کرتے ہیں۔
  • (۶) المعہدالعالی کی طرف سے علوم اسلامی ،آداب قضاء وافتاء ،مقاصد شریعت اور جدید علوم پر علماء وماہرین فن کے محاضرات کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے ۔
  • (۷) مختلف نوع کے علمی وفقہی موضوعات پر سال دوم کے نوجوان علماء سے مقالات لکھائے جاتے ہیں اور مقالات جمع کرنے کے بعد ہی افتاء اور قضاء کی سند دی جاتی ہے بشرطیکہ سالانہ امتحان میں کامیاب ہوں۔
  • (۸) اس ادارہ میں ملک کے مستند ومعروف دینی درسگاہ کے فضلاء جو ملک کے مختلف صوبوں سے آئے ہوئے ہوتے ہیں تربیت افتاء وقضاء حاصل کرتے ہیں چنانچہ صوبہ بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ کے علاوہ یوپی، گجرات، مہاراشٹرا، کشمیر،ا ٓسام، بنگال، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ،آندھرا پردیش اور نیپال وغیرہ کے اب تک … نوجوان علماء یہاں سےتربیت حاصل کرچکے ہیں۔ جو ہند وبیرون ہند مختلف مقامات پر افتاء وقضاء ،درس وتدریس اور دعوت وتبلیغ کے فرائض بہتر طریقے پر انجام دے رہے ہیں۔
  • (۹) المعہدالعالی میں ۷؍ماہر فن اساتذہ ،ایک دفتر انچارج ،دوباورچی، ایک چپراسی،ایک حارس اور ایک سویپر اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں جن کی کل تعداد تیرہ(13)ہے۔ان کے علاوہ امارت شرعیہ کے قضاۃ ومفتیان کرام بھی نوجوان علماء کی تربیت افتاء وقضاء کی خدمات انجام دیتے ہیں۔
  • (۱۰) یہ ادارہ ،امارت شرعیہ کی نگرانی میں کام کرتاہے ،لیکن چونکہ اس کے اخراجات مستقل ہیں اس لئے اس کے حساب وکتاب کا نظام بیت المال امارت شرعیہ سے الگ رکھا گیا ہے اور اس کے لئے باقاعدہ ’’المعہدٹرسٹ ‘‘ کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم ہے جس کے زیر انتظام یہ ادارہ کام کر رہا ہے۔اور اہل خیرکے تعاون سے اس کے تمام اخراجات پورے کئے جاتے ہیں۔